16 اپریل 2012 - 19:30

امریکی صدر اوباما ان دنوں آل سعود کے حامی ہیں اور یہ ان کی مجبوری ہے کیونکہ آل سعود کے سوا اس علاقے میں اورکوئی نہيں ہے جو امریکا کے مفاد میں اپنے مفاد کی قربانی دے سکے اور شاہ ایران اور حسنی مبارک کی جگہ امریکی پولیس مین کا کردار ادا کرسکے .

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی - ابنا - کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر اوباما ان دنوں آل سعود کے حامی ہیں اور یہ ان کی مجبوری ہے کیونکہ آل سعود کے سوا اس علاقے میں اورکوئی نہيں ہے جو امریکا کے مفاد میں اپنے مفاد کی قربانی دے سکے اور شاہ ایران اور حسنی مبارک کی جگہ امریکی پولیس مین کا کردار ادا کرسکے چنانچہ وہ سعودی بادشاہ کے قصیدے پڑھ پڑھ کر نہیں تھک رہے اور یہ بھی امکان ہے کہ جس طرح کہ وہ انتخابات سے پہلے تبدیلی کے نعرے لگا رہے تھے اور بعد اس نعرے سے پشیمان ہوگئے، آمروں، بادشاہوں اور مطلق العنان حکمرانوں کی مذمت سے بھی نادم ہوگئے ہوں؛ امر مسلم ہے کہ یہ پشیمانی اسرائیل کے تحفظ اور امریکی صدارت کا تقاضا ہو لیکن انھوں نے صدارتی عہدے پر فائز ہونے سے قبل ایک کتاب لکھی تھی جس میں ان کے نسبتاً انقلابی نظریات مندرج ہیں۔بارک اوباما کی اس کتاب کا نام "Audacity of Hope" ہے جس میں انھوں نے لکھا ہے:سعودی عرب ایک مطلق العنان (استبدادی) حکومت ہے

بارک اوباما نے اپنے انتخاب سے کچھ عرصہ قبل اس کتاب میں لکھا تھا کہ ہم روزانہ جتنے ڈالر تیل خریدنے کے لئے خرچ کرتے ہيں ان کا زیادہ تر حصہ ایسی حکومتوں کی جیب میں پہنچتا ہے جو سیاسی استحکام سے محروم ہیں اور سعودی عرب بھی ان ہی ممالک میں سے ایک ہے۔ ہم سعودی عرب کی طرح کی حکومتوں کو اہمیت نہیں دیتے، ہم انہیں پیسے دیتے ہیں اور ان سے تیل خریدتے ہیں کیونکہ ہمیں ان کے تیل کی ضرورت ہےامریکہ کی قومی سلامتی زد پذیر ہے

بارک اوباما نے توانائی سے امریکہ کی وابستگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امریکہ کی قومی سلامتی کو زد پذیر قرار دیا ہے اور کہا ہے: تیل سے وابستگی صرف ہماری معیشت پر ہی نظر انداز نہيں ہوتی بلکہ یہ ہماری قومی سلامتی کو بھی غیرمستحکم کردیتی ہے؛ ہم روزانہ 80 کروڑ ڈالر کا تیل خریدتے ہيں جن کا بہت بڑا حصہ ایسے مطلق العنان حکمرانوں کی جیب میں جاتا ہے جو کسی قسم کے مستحکم سیاسی نظریئے کے مالک نہيں ہیں؛ ہم سعودی عرب جیسی استبدادی اور آمر و مطلق العنان حکومتوں کو اہمیت نہیں دیتے بلکہ ہم انہیں پیسے دیتے ہیں اور ان سے تیل خریدتے ہيں کیونکہ ان کا تیل ہماری ضرورت ہے۔

اوباما کی کتاب "امید کی جرات" (Audacity of Hope) 2006میں چھپی تھی اور یہ ان کی سیاسی دوراندیشی کی علامت ہے کہ انھوں نے سعودی حکومت میں عدم استحکام کی پیشن گوئی کی ہے گوکہ ان کی سیاسی دور اندیشی اسرائیل اور سی آئی کے زير اثر کسی کام نہیں آسکی ہے۔

وہ سعودی عرب میں ممکنہ عدم استحکام سے تشویش کا اظہار کرتے ہیں اور لکھتے ہیں: "اگر سعودی عرب میں تیل پیدا کرنے والے کسی بھی علاقے پر ایک کامیاب حملہ ہوجائے تو امریکہ کی معیشت پر لرزہ طاری ہوجائے گا۔

اوباما لکھتے ہیں: ہمارے پاس دنیا کے تیل کے تین فیصد ذخائر ہیں لیکن ہم دنیا کا پچیس فیصد تیل جلا دیتے ہیں اور ریپبلکنز نے ابھی تک تیل سے وابستگی کم کرنے کے لئے کوئی اقدام انجام نہیں دیا ہے۔

اوباما نے روس کے تیل اور گیس سے وابستہ ملک یوکرین میں مغرب نواز حکومت کی ناکامی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے سعودی عرب کر تیل سے خلاصی کی آرزو کی ہے اور لکھا ہے کہ جو قوم اپنے مفادات کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں نہ رکھ سکے گی، وہ اپنے مستقبل پر بھی کوئی قابو نہیں رکھ سکے گی۔

اوباما نے البتہ امریکہ پر صہیونی لابی کی بلا منازع حکمرانی کی طرف کوئی اشارہ نہیں کیا ہے اور یہ بتانے سے گریز کیا ہے کہ امریکہ میں کوئی بھی چھوٹا یا پھر بڑا فیصلہ یہودی اقلیت کی مرضی کے بغیر نہيں ہوتا اور کوئی بھی شخص ان کی مرضی کے مطابق کانگریس مین، سینٹر یا بلدیہ کا رکن نہیں بن سکتا اور صدارتی امیدواروں کا تعین بھی یہودی کرتے ہیں اور صرف وہ نامزد امیدوار اپنی کامیابی کا یقین کرسکتا ہے جو یہودی مفادات کے تحفظ کی مؤثر ضمانت دے سکے اور یہ کہ دنیا کے سب سے بڑے ملک امریکہ کے اوپر ایک جعلی ریاست کا عملی کنٹرول جس کا نام اسرائیل رکھا گیا ہے۔

.......

/169

تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:

ہیریٹیج انسٹٹیوٹ - فارن پالیسی ـ بارک اوباما:آل سعود کا زوال آبنائے ہرمز کی بندش سے زيادہ خطرناک / آل سعود کا زوال قریب ہے / آل سعود ڈکٹیٹر ہے